نادرا کا نیا کیو آر کوڈ شناختی کارڈ
پاکستان نے ڈیجیٹل خودانحصاری کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ایک نیا “چِپ لیس” قومی شناختی کارڈ متعارف کروا دیا ہے۔ اب درآمد شدہ مائیکروچِپ کی بجائے کارڈ کی تصدیق کے لیے محفوظ QR کوڈ استعمال کیا جائے گا۔ یہ کارڈ کراچی میں قائم نیشنل سیکیورٹی پرنٹنگ کمپنی (NSPC) مقامی طور پر تیار کرے گی، جو نادرا کے اپنے سیکیورٹی معیار پر بنائی گئی ہے۔
چِپ کیوں ہٹائی گئی؟
گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کے سمارٹ شناختی کارڈز میں بیرون ملک سے منگوائی گئی مائیکروچِپس استعمال ہوتی رہی ہیں۔ مسئلہ یہ تھا کہ چِپ ریڈرز ملک بھر میں کہیں دستیاب نہیں تھے، جس کی وجہ سے چِپ کی زیادہ تر خصوصیات کبھی استعمال ہی نہیں ہو سکیں۔
QR کوڈ اس خلا کو ختم کر دیتا ہے۔ اب کارڈ کو سرکاری Pak Identity (PakID) ایپ کے ذریعے کسی بھی عام سمارٹ فون کیمرے سے سکین کیا جا سکتا ہے، جس سے تصدیق کا عمل تیز اور تقریباً ہر موبائل صارف کے لیے ممکن ہو جاتا ہے۔
منظوری اور نفاذ کا شیڈول
وفاقی حکومت نے نئے کارڈ کے ڈیزائن کو 23 فروری 2026 کو منظور کیا۔ اس کا اجراء مرحلہ وار کیا جا رہا ہے، یعنی ایک ہی وقت میں تمام کارڈز تبدیل نہیں ہوں گے:
| مرحلہ | کارڈ کی قسم | آغاز کی تاریخ |
|---|---|---|
| مرحلہ اول | عام قومی شناختی کارڈ (پرانے ٹیسلن NICC کی جگہ) | 14 اگست 2026 |
| مرحلہ دوم | NICOP (بیرون ملک مقیم پاکستانی) اور جونیئر کارڈز | جنوری 2027 |
| مرحلہ سوم | پاکستان اوریجن کارڈ (POC) | تاریخ کا اعلان باقی |
اہم بات یہ ہے کہ موجودہ کارڈز — چاہے وہ چِپ والے ہوں یا بغیر چِپ کے — اپنی طے شدہ میعاد ختم ہونے تک بدستور قابلِ استعمال رہیں گے۔ اس لیے کسی کو بھی صرف اس اپڈیٹ کی وجہ سے فوری طور پر نادرا دفتر جانے کی ضرورت نہیں۔
مزید پڑھو
How to Enroll in the 2026 BISP 8171 Dynamic Survey Program and Access Your Benefits
QR کوڈ میں کیا محفوظ ہوگا؟
QR کوڈ میں کارڈ ہولڈر کی تصویر اور بنیادی شناختی تفصیلات محفوظ ہوں گی۔ اس کی مدد سے بینکس، ٹیلی کام کمپنیاں، ہسپتال، پاکستان ریلوے اور پولیس مخصوص سافٹ ویئر کے ذریعے فوری تصدیق کر سکیں گے۔ اس سے نام، پتہ یا دیگر تفصیلات درج کرتے وقت ہونے والی دستی (مینوئل) غلطیوں میں بھی کمی آئے گی۔
نئے کارڈ پر شامل اضافی تفصیلات
QR کوڈ کے علاوہ، نئے ڈیزائن کیے گئے کارڈ میں چند مزید عملی خصوصیات شامل کی گئی ہیں:
- نام اور پتہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں
- فیملی نمبر کا خانہ
- معذور افراد، سینئر سٹیزنز اور آرگن ڈونرز کے لیے مخصوص نشانات
- آزاد جموں و کشمیر کے شہریوں کے لیے الگ شناختی نشان، جو ان کے سٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ پر مبنی ہوگا
- بہتر کیے گئے مرئی سیکیورٹی فیچرز اور UV لائٹ میں نظر آنے والے پوشیدہ سیکیورٹی نشانات
مزید پڑھو
BISP 8171 SMS Code Guide: Instantly Check Your Status in Seconds!
عام شہریوں کے لیے اس کی اہمیت کیا ہے؟
تقریباً 14 سال پہلے متعارف کروایا گیا چِپ والا کارڈ کئی جدید سہولیات کا وعدہ لے کر آیا تھا، مگر ریڈر انفراسٹرکچر کبھی مکمل نہ ہو سکا، جس کی وجہ سے عام آدمی ان سہولیات سے مستفید نہ ہو سکا۔ QR کوڈ اس رکاوٹ کو یکسر ختم کر دیتا ہے — اب تصدیق کے لیے صرف ایک موبائل فون درکار ہے، کسی خاص ہارڈ ویئر کی ضرورت نہیں۔ یہ نظام بینک اکاؤنٹ کھلوانے سے لے کر ٹرین میں سفر تک، روزمرہ استعمال کے لیے کہیں زیادہ عملی ثابت ہوگا۔
